സ്കൂൾ വിദ്യാർത്ഥികൾക്കും
D El Ed വിദ്യാർത്ഥികൾക്കും
വേണ്ടി പ്രത്യേകം തയ്യാറാക്കി
അവതരിപ്പിക്കുന്നത്
അബ്ദുൽ റഹ്മാൻ സി വി ,കോഴിക്കോട്
تشبیہہ ഉപമ
ایک چیز کو دوسری چیز کے ہم شکل قرار دینا-
ഒരു വസ്തുവിനെ മറ്റൊരു വസ്തുവിനെ പോലെയെന്ന് പറയുക
جیسے : پتھر جیسا دل
چاند سا چہرہ
مثلاً : ۔
نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
استعارہ അലങ്കാരം
جس میں ایک چیز کے اصلی معنی سے ہٹ کر دوسرے معنى میں ليا جاتا ہے
ഒരു പദത്തെ അതിൻറെ യഥാർത്ഥ അർത്ഥത്തിനു പുറമേ മറ്റേതെങ്കിലും അർത്ഥത്തിൽ ഉപയോഗിക്കുന്നതിന് ഇസ്തിആറ: استعاره എന്നുപറയുന്നു۔
نکلا کبھی گہن سے آیا کبھی گہن میں
അന്ത്യാക്ഷര പ്രാസം
وہ حروف ہیں جو شعر کےدوسرے مصرعے کےسب سے آخر میں بار بار آتے ہیں ۔
ആദ്യാക്ഷര പ്രാസം
اشعار کے دوسرے مصرعے کے آخر میں ردیف سے پہلے بار بار آنے والے ہم آواز الفاظ
റദീഫിനു മുമ്പായി വരുന്ന ഒരേ ശബ്ദ രൂപത്തിലുള്ള പദങ്ങൾ .
مثلاً :-
دل نادان تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
اس شعر میں
" ہوا اور دوا "
قافیہ ہیں
"کیا ہے کیا ہے " ردیف ہیں
പുരാവൃത്തം
شعری اصطلاح میں تلمیح سے مراد ہے کہ ایک لفظ یا مجموعہ الفاظ کے ذریعے کسی تاریخی‘ سیاسی‘ اخلاقی یا مذہبی واقعے کی طرف اشارہ کیا جائے۔
مثلاً :-
کیا فرض ہے کہ سب کو ملے
ایک سا جواب
آﺅ نا ہم بھی سیر کریں کوہِ طور کی
ഒരു വാക്കിലൂടെയോ ഒന്നിലേറെ വാക്കുകളിലൂടെയോ ഏതെങ്കിലും ചരിത്രപരമോ രാഷ്ട്രീയമോ സാംസ്കാരികമോ മതപരമോ ആയ ഒരു സംഭവത്തിലേക്കുള്ള സൂചന നൽകുന്നു.
ഇവിടെ کو ہ طور എന്ന തൽമീഹിലൂടെ പ്രവാചകൻ മൂസാ (അ) ന്റെ ജീവിതത്തിലെ ഒരു സുപ്രധാന സംഭവത്തിലേക്ക് സൂചന നൽകിയിരിക്കുന്നു
Idiom
ഭാഷാ പ്രയോഗം
محاوره یہ ہے کہ
کسی مصدر کو اس کے
اصلی معنى کے بجائے
مجازی معنى ميں استعمال کیا جائے -
ഒരു ക്രിയാ നാമത്തിൽ അതിന്റെ യഥാർത്ഥ അർത്ഥത്തിനു പകരം മറ്റൊരു അർത്ഥം ജനിപ്പിക്കുന്നു.
مثلاً : -
آڑے آنا ۔ مشکل میں مدر کرنا
تارے گننا ۔ جاگتے رہنا
آسمان ٹوٹ پڑنا ۔ سخت مصبیت آنا
روزمرہ: -
وه الفاظ يا جملے ہیں جو ہر روز
کی زندگی میں بولے جاتے ہیں ۔
(ദൈനംദിന ജീവിതത്തിലെ സംഭാഷണത്തിൽ സ്വാഭാവികമായും കടന്നുവരുന്ന ചില പ്രയോഗങ്ങൾ)
مثلاً : -
باربار کیوں تقاضا کرتے ہو ۔
صرف دس پانچ روپیے کی تو بات ہے ۔
ഈ വാചകങ്ങളിൽ باربار ,دس پانچ എന്നിവ روزمره ആവുന്നു.
പഴഞ്ചൊല്ല്
وہ جملہ ہوتا ہے جو زندگی کے کسی تجربے، سچائی یا سبق کو مختصر اور دلچسپ انداز میں بیان کرتا ہے۔ یہ لوگ صدیوں سے اپنے تجربات اور عقل کی روشنی میں بناتے آئے ہیں۔ کہاوتیں عام طور پر روزمرہ زندگی میں نصیحت دینے یا بات کو مؤثر بنانے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔
1. اونٹ کے منہ میں زیرہ
معنی: بہت تھوڑی چیز کسی بڑے کام کے لیے ناکافی ہونا۔
مثال: ایک روٹی دے کر بولے پیٹ بھر گیا؟ یہ تو اونٹ کے منہ میں زیرہ ہے۔
2. نیکی کر داریا میں ڈال
معنی: نیکی کرو اور اس کا بدلہ نہ سوچو۔
مثال: غریب کی مدد کی اور کسی سے ذکر بھی نہیں کیا، سچ میں نیکی کر داریا میں ڈال۔
3. آ بیل مجھے مار
معنی: خود ہی مصیبت کو دعوت دینا۔
مثال: وہ جانتے ہوئے بھی جھگڑے میں کود پڑا، جیسے
آ بیل مجھے مار۔
4. اندھیر نگری چوپٹ راجا
معنی: جہاں کوئی قانون نہ ہو اور سب کچھ بے ترتیبی سے ہو۔
مثال: اُس دفتر میں سب اپنی مرضی سے کام کرتے ہیں، لگتا ہے اندھیر نگری چوپٹ راجا ہے۔
5. جیسا کرو گے ویسا بھرو گے
معنی: انسان کو اپنے کیے کا بدلہ ضرور ملتا ہے۔
مثال: اگر تم دوسروں کے ساتھ برا سلوک کرو گے، تو انجام بھی ویسا ہی ہوگا—جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔
*یہیلیاں*
وہ سوالات یا جملے ہوتے ہیں جو پہچان یا عقل سے حل کیے جاتے ہیں۔ یہ زبان کا ایسا کھیل ہوتا ہے جس میں کسی چیز یا بات کو چھپا کر بیان کیا جاتا ہے، اور سننے والے کو اندازے سے اس کا جواب دینا ہوتا ہے۔
Riddle is a type of puzzle or question posed in a clever or poetic way that requires careful thinking to solve.
"Paheli" = A cleverly worded puzzle or question, often with hidden meaning, meant to be solved.
یہیلی ایک چھپا ہوا سوال ہوتا ہے جس میں کسی چیز کو اشاروں، تشبیہوں یا پہچان کے انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ سامنے والا سوچے، سمجھے اور صحیح جواب نکالے۔
یہیلیوں کی مثالیں اور جوابات:
1 ـ ایسا کیا ہے جو دن میں ایک بار آتا ہے، اور رات میں نہیں؟
جواب:
لفظ "د" (یہ صرف "دن" میں آتا ہے، "رات" میں نہیں)
2 ۔ ایسا کون سا پرندہ ہے جو ہوا میں نہیں اُڑتا؟
جواب:شترمرغ
3 ۔ کالا کوّا سفید کھائے،
نہ چبائے، نہ نگلے،
پھر بھی پیٹ بھر جائے؟
جواب:
قلم اور کاغذ (قلم—کالا، کاغذ—سفید)
4 - دو حرفوں کا میرا نام،
پانی میرا کام،
گرمی میں سب کریں تلاش،
سردی میں کوئی نہ پوچھے۔
جواب:برف
5 ۔ نہ میں انسان، نہ جانور،
میرے پیٹ میں بچے ہزار۔
جواب:
کتاب (صفحات کو بچے کہا گیا)
کنایہ
ا یک ادبی اندازِ بیان ہے جس میں بات کو براہِ راست کہنے کے بجائے اشارے یا علامتی انداز میں بیان کیا جاتا ہے ـ
(کنایہ ایسی بات کو کہتے ہیں جو کسی اور بات کی طرف اشارہ کرے، یعنی جو لفظ کہا جائے وہ کچھ اور ہو، مگر مطلب دوسرا ہو۔
یہ ادب میں خوبصورتی اور نرمی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔)
کنایہ کی چند مثالیں:
1. وہ سفید پوش آدمی ہے۔
ظاہری مطلب: وہ سفید کپڑے پہنتا ہے۔
اصلی مطلب (کنایہ): وہ خوددار اور غیرت مند ہے، کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتا۔
2. اس کے ہاتھ لمبے ہیں۔
ظاہری مطلب: اس کے ہاتھ واقعی لمبے ہیں۔
اصلی مطلب (کنایہ): وہ چور ہے یا ناجائز طریقے سے چیزیں لیتا ہے۔
3. اس کا دل بڑا ہے۔
ظاہری مطلب: دل کا سائز بڑا ہے۔
اصلی مطلب (کنایہ): وہ سخی یا درگزر کرنے والا ہے۔
4. وہ کان کا کچا ہے۔
ظاہری مطلب: اس کے کان نرم ہیں۔
اصلی مطلب (کنایہ): وہ دوسروں کی باتوں پر فوراً یقین کر لیتا ہے۔
5. اس کے پاؤں زمین پر نہیں ٹکتے۔
ظاہری مطلب: وہ زمین پر کھڑا نہیں رہتا۔
اصلی مطلب (کنایہ): وہ بہت گھومتا پھرتا ہے یا ناپائیدار طبیعت کا ہے۔
No comments:
Post a Comment