Ek nayi duniya class 8 mukhtasar mafhun


 وجاہت علی سندیلوی کی نظم "آؤ اک دنیا بنائیں ہم نئی" کا مختصر مفہوم:




یہ نظم وجاہت علی سندیلوی کے ایک مثالی معاشرے کے وژن کو پیش کرتی ہے جو اتحاد، احترام، رواداری، اور ترقی پر مبنی ہے۔ یہ نظم ایک جامع اور پائیدار خوشی سے بھرپور دنیا کی تعمیر کے لیے اجتماعی کوشش کی دعوت ہے۔










* آؤ اک دنیا بنائیں ہم نئی


 جس میں ہو آسودگی اور دلکشی




   


شاعر ایک نئی دنیا کی تعمیر کی دعوت دیتا ہے جہاں


 ہر طرف اطمینان، خوشحالی اور خوبصورتی ہو۔ یہ ایک گہری، مثبت تبدیلی کی پکار ہے۔








 بھائیوں کی طرح سب مل کر رہیں


احترام ایک دوسرے کا ہم کریں






  تمام انسانوں کو بھائیوں کی طرح مل جل کر رہنے کی تلقین کی گئی ہے جو خاندانی اتحاد اور مساوات کا احساس پیدا کرتا ہے۔


   باہمی احترام کو معاشرتی ہم آہنگی کی بنیاد قرار دیا گیا ہے، جہاں ہر فرد کے وقار کو تسلیم کیا جائے۔








 نفرتوں سے پاک ہو اپنی زمیں


ہو رواداری کا مسلک ہر کہیں




 


یہ شعر زمین کو نفرت، تعصب اور دشمنی سے پاک کرنے کی خواہش کا اظہار کرتا ہےجو سندیلوی کے فرقہ واریت مخالف موقف کی عکاسی کرتا ہے ـ


 رواداری کو محض ایک خوبی نہیں بلکہ ایک بنیادی اصول یا طرز زندگی کے طور پر اپنانے پر زور دیا گیا ہےجو ہر جگہ موجود ہو۔






  صاف دل اور بے تعصب ہو دماغ


مہر و الفت کے جليں ہر سو چراغ






   اندرونی پاکیزگی، اخلاص اور تعصب سے پاک ذہن کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہےجو حقیقی سماجی ہم آہنگی کے لیے ضروری ہے ۔


 مہربانی اور محبت کو چراغوں سے تشبیہ دی گئی ہے جو ہر طرف روشن ہوں، تاریکی اور دشمنی کو دور کریں ۔






 ہم غریبی اور جہالت سے لڑیں


  راستوں میں ہم ترقی کے بڑھیں




غربت اور جہالت جیسی بنیادی سماجی برائیوں کے خلاف فعال جدوجہد کی دعوت دیتا ہے، جو سندیلوی کے سوشلسٹ رجحانات اور دبے کچلے لوگوں سے ہمدردی کو ظاہر کرتا ہے ـ


مسلسل ترقی اور جامع انسانی و سماجی بہتری کے حصول کے لیے آگے بڑھنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔








 علم و حکمت کی جلا کر مشعلیں


سر کریں ہم منزلوں پہ منزلیں






علم اور حکمت کو مشعلوں سے تشبیہ دی گئی ہے جو ترقی کے راستے کو روشن کرتی ہیں، تعلیم کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے ۔


 مسلسل کامیابی اور ترقی کے ایک نہ ختم ہونے والے سفر کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں ایک منزل حاصل کرنے کے بعد نئی منزلوں کی طرف بڑھا جائے ۔






  ہر کوئی ہو شادمان و کامران


خوش دلی کی ہو بہار بے خزان


   


  ہر فرد خوش اور کامیاب ہو، جو ایک مساوی اور جامع معاشرے کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔


  دائمی خوشی، جیون اور تجدید کی علامت ہےجو ایک ایسی حالت کو پیش کرتا ہے جہاں خوشی کبھی ختم نہ ہو ۔


No comments:

Post a Comment