Shabnam Siddiqi

 

ایک تنہا سفر 


پوچھو نہ ذرا

اس راہ میں کیوں اکیلے ہو؟

کہ پہلے ہی میں نے کہا تھا

کون کون میرے ساتھ آئیں

جواب کی برسات تھی


پڑوسی کی شادی

کسی کا سالگرہ

چھوٹے بچوں کی تعلیم

ماہ کی دوسرا ہفتہ

ہفتے کا اکیلا اتوار

پھر اپنے سائے سے پوچھا

کیا تو تیار ہے؟

اِک خاموشی کے بعد 

اس نے بھی کہا

اب کی بار میں بھی نہیں۔

کچھ ضروریات اور بھی


آخر کار میں نے مجھ سے ہی پوچھا

کیا تو میرے ساتھ آئے گا ؟

پیر کا چلنے پر سست روی

ہاتھوں میں درد

سر اور آنکھوں میں نیند کا جھولا

منہ سے ایک لمبی جمائی۔


اور میں نے اکیلا سفر کیا

آوازوں سے خالی

اور ابدی سکون کے ساتھ۔


رحمۃ اللّٰہ صدیقی 

08-05-2022

No comments:

Post a Comment